اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بھارتی سرمایہ کار کمپنی کے تزویراتی سازو سامان کے تیسرے حصے کی شکل میں دو ساحلی کرینیں چابہار کی شہید بہشتی بندرگاہ میں داخل ہوگئیں اور اب بھارت کے سازو سامان کی مالی شرح 24 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
صوبہ سیستان و بلوچستان کی بندرگاہوں اور سمندری امور ادارے کے نائب سربراہ "حسین شہیدی" نے کہا کہ ساحلی کرینیں جدید ترین اور اعلی معیار کے بندرگاہ کے ساز و سامان میں سے ہیں؛ اس طرح؛ تین مراحل میں درآمد شدہ سامان کی مالیت کی شرح 24 ملین تک پہنچ گئی ہے، جس سے اس بندرگاہ میں سامان کی فراہمی کیلئے بھارتی کمپنی کے وعدوں کا تقریبا 28 فیصد پورا ہوگیا ہے۔
شہیدی نے کہا کہ اس سے قبل 400 اور 140 ٹن ساحلی کرینیں چابہار بندرگاہ میں داخل ہوئیں تھیں اور ان دونوں کرینوں کے اضافے کیساتھ ہی شہید بہشتی بندرگاہ کی سالانہ لوڈنگ اور ان لوڈنگ کی صلاحیت ایک مطلوبہ سطح پر جا پہنچی ہے۔
انہوں نے بین الاقوامی سطح پر چابہار پورٹ کی اہمیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بندرگاہ میں جدید اور موثر سازوسامان، 16 میٹر واٹر گودی اور وسیع بیک واٹر سے تمام جہازرانی لائنوں سے سمندر جانے والے جہازوں کی مختلف اقسام کا لنگر انداز ہونے کی صلاحیت ہے۔
شہیدی نے کہا کہ معاہدہ (بی او ٹی) کے فریم ورک کے اندر بھارت نے شہید بہشتی بندرگاہ کو نئے ساز و سامان سے لیس کرنے اور ان کو بروئے کارلانے کا وعدہ کیا ہے اور یہ ملک کی بندرگاہوں کو لیس کرنے کا ایک نیا ماڈل ہے جو پہلی بار بندرگاہوں میں 100 فیصد غیر ملکی سرمایہ کاری سے کی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲